Friday, April 22, 2011

امیرالمؤمنین علیہ السلام کے منتخب خطبات

امیرالمؤمنین علیہ السلام کے منتخب خطبات (39)



میرا ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جنہیں حکم دیتا ہوں تو مانتے نہیں۔ بلاتا ہوں، تو آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ تمہارا بُرا ہو۔ اب اپنے اللہ کی نصرت کرنے میں تمہیں کس چیز کا انتظار ہے۔ کیا دین تمہیں ایک جگہ اکھٹا نہیں کرتا اور غیرت و حمیت تمہیں جوش میں نہیں لاتی؟میں تم میں کھڑا ہو کر چلاتا ہوں اور مدد کے لیے پکارا ہوں، لیکن تم نہ میری کوئی بات سنتے ہو، نہ میرا کوئی حکم مانتے ہو یہاں تک کہ ان نافرمانیوں کے بُرے نتائج کھل کر سامنے آجائیں۔ نہ تمہارے ذریعے خون کا بدلا لیا جا سکتا ہے، نہ کسی مقصد تک پہنچا جا سکتا ہے۔ میں نے تم کو تمہارے ہی بھائیوں کی مدد کے لیے پکارا تھا۔ مگر تم اس اونٹ کی طرح بلبلا نے لگے۔ جس کی ناف میں درد ہو رہا ہو، اور اس لاغر کمزور شتر کی طرح ڈھیلے پڑ گئے جس کی پیٹھ زخمی ہو پھر میرے پاس تم لوگوں کی ایک چھوٹی سی متزلزل و کمزور فوج آئی۔ اس عالم میں کہ گویا اسے اس کی نظروں کے سامنے موت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ اس خطبہ میں جو لفظ "متذایب" آیا ہے، اس کے معنی مضطرب کے ہیں۔ جب ہوائیں بل کھاتی ہوئی چلتی ہیں، تو عرب اس موقعہ پر "تذائبت الریح" بولتے ہیں اور بھیڑ یئے کو بھی ذئب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کی چال میں ایک اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔ معاویہ نے مقامِ مین التمر پر دھاوا بولنے کے لیے دو ہزار سپاہیوں کا ایک دستہ نعمان ابنِ بشیر کی سر کردگی میں بھیجا۔ یہ جگہ کوفہ کے قریب امیرالمومنین کا ایک دفاعی مورچہ تھی۔ جس کے نگران مالک ابن کعب ارحبی تھے۔ گو ان کے ماتحت ایک ہزار جنگجو افراد تھے۔ مگر اس موقعہ پر صرف سو ۱۰۰ آدمی وہاں موجود تھے۔ جب مالک نے حملہ آور لشکر کو برھتے دیکھا تو امیرالمومنین (ع) کو کمک کے لیے تحریر کیا جب امیرالمومنین (ع) کو یہ پیغام ملا ہے، تو آپ نے لوگوں کو ان کی امداد کے لیے کہا، مگر صرف تین سو آدمی آمادہ ہوئے ۔ جس سے حضرت بہت بد دل ہوئے اور انہیں زجر و توبیخ کرتے ہوئے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ حضرت خطبہ دینے کے بعد جب مکان پر پہنچے، تو عدی ابن حاتم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا امیرالمومنین(ع) میرے ہاتھ میں بنی طے کے ایک ہزار افراد میں اگر آپ حکم دیں تو انہیں روانہ کر دوں؟ حضرت نے فرمایا کہ یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ دشمن کے سامنے ایک ہی قبیلہ کے لوگ پیش کیے جائیں۔ تم وادی نخیلہ میں جا کر لشکر بندی کرو۔ چنانچہ انہوں نے وہاں پہنچ کر لوگوں کو جہاد کی دعوت دی، تو بنی طے کے علاوہ ایک ہزار اور جنگ آزما جمع ہو گئے۔ یہ ابھی کوچ کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ مالک ابنِ کعب کا پیغام آگیا کہ اب مدد کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے دشمن کو مار بھگایا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مالک نے عبداللہ ابن جوزہ کو قرظہ ابنِ کعب اور مخنف ابنِ سلیم کے پاس دوڑا دیا تھا کہ اگر کوفہ سے مدد آنے میں تاخیر ہو تو یہاں سے بر وقت امداد مل سکے۔ چنانچہ عبداللہ دونوں کے پاس گیا مگر قرظہ سے کوئی امداد نہ مل سکی۔ البتہ مخنف ابنِ سلیم نے پچاس آدمی عبدالرحمن ابنِ مخنف کے ہمراہ تیار کیے، جو عصر کے قریب وہاں پہنچے۔ اس وقت تک یہ دو ہزار آدمی مالک کے سو آدمیوں کو پسپا نہ کر سکے تھے۔ جب نعمان نے ان پچاس آدمیوں کو دیکھا، تو یہ خیال کیا کہ اب ان کی فوجیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ لہذا وہ میدان سے بھاگ کھڑا ہوا۔ مالک نے ان کے جاتے جاتے بھی عقب سے حملہ کر کے ان کے تین آدمیوں کو مار ڈالا۔


امیرالمؤمنین علیہ السلام کے منتخب خطبات 28



( جو اس خطبے کی ایک فصل کی حیثیت رکھتا ہے جس کا آغاز " الحمد للہ غیر مقنوط من رحمتھ " سے ہوا ہے اوراس میں گیارہ تنبیہات ہیں  )
دنیا نے پیٹھ پھیر کر اپنے رخصت ہونے کا اعلان اور منزل عقبیٰ نے سامنے آ کر اپنی آمد سے آگاہ کر دیا ہے ۔ آج کا دن تیاری کا ہے اور کل دوڑ کا ہو گا ۔ جس طرف آگے بڑھنا ہے، وہ تو جنت ہے اور جہاں کچھ اشخاص (اپنے اعمال کی بدولت بلا اختیار پہنچ جائیں گے وہ دوزخ ہے کیا موت سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والا کوئی نہیں اور کیا اس روز مصیبت کے آنے سے پہلے عمل (خیر) کرنے والا ایک بھی نہیں، تم امیدوں کے دور میں ہو جس کے پیچھے موت کا ہنگامہ ہے ۔ تو جو شخص موت سے پہلے ان امیدوں کے دنوں میں عمل کر لیتا ہے تو یہ عمل اُس کیلئے سودمند ثابت ہوتا ہے اور موت اُس کا کچھ بگاڑ  نہیں سکتی اور جو شخص موت سے قبل زمانہ امید و آرزو میں کوتاہیاں کرتا ہے تو وہ عمل کے اعتبار سے نقصان رسیدہ رہتا ہے اور موت اس کیلئے پیغام ضرر لے کر آتی ہے ۔ لہٰذا جس طرح اس وقت جب ناگوار حالات کا اندیشہ ہو نیک اعمال میں منہمک ہوتے ہو، ویسا ہی اس وقت بھی نیک اعمال کرو جب کہ مستقبل کے آثار مسرت افزا محسوس ہو رہے ہوں۔ مجھے جنت ہی ایسی چیز نظر آتی ہے جس کا طلب گار سویا پڑا ہو اور جہنم ہی ایسی شے دکھائی دیتی ہے جس سے دور بھاگنے والا خواب غفلت میں محو ہو، جو حق سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسے باطل کا نقصان و ضرر متعلق سب سے زیادہ دو ہی چیزوں کا خطرہ ہے ۔ ایک خواہشوں کی پیروی اور دوسرے امیدوں کا پھیلاوٴ۔ لہذا جب تک اس دنیا میں ہو اس دنیا سے وہ زاد راہ حاصل کر لو جس کے ذریعے کل اپنے نفس کا تحفظ کر سکو ۔
سید رضی کہتے ہیں کہ اگر کوئی کلام گردن پکڑ کر زہد و نیوی کی طرف لانے والا اور عمل اخروی کیلئے مجبور و مضطر کر دینے والا ہو سکتا ہے تو وہ کلام ہے جو امیدوں کے بندھنوں کو توڑنے اور  وعظ و سرزنش سے اثر پذیری کے جذبات کو مشتعل کرنے کیلئے کافی و وافی ہے ۔ اس خطبے میں یہ جملہ ”الاوالیوم المصمار و غذا السباق السبعة الجنة و الغایة النار“ تو بہت ہی عجیب و غریب ہے ۔ اس میں لفظوں کی جلالت، معنی کی بلندی، سچی تمثیل اور صحیح تشبیہ کے ساتھ عجیب اسرار اور باریک نکات ملتے ہیں۔ حضرت امام علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا”السبعة الجنة و الغایة النار“ میں بمعتی مقصود کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے دو جداگانہ لفظیں ”السبقة الغلیة“ استعمال کی ہیں۔ جنت کیلئے لفظ ”سبقة“(بڑھنا) فرمائی ہے اور جنہم کیلئے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔ کیونکہ سبقت اس چیز طرف کی جاتی ہے جو مطلوب و مرعوب ہو اور یہ بہشت ہی کی شان ہے اور دوزخ میں مظلوبیت و مرغوبیت کہاں کہ اس کی جستجو و تلاش میں بڑھا جائے ۔ (نعوذ باللہ منہا ) چونکہ البقة النار کہنا صحیح و درست نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی لئے والغایة النار فرمایا اور غایت صرف منزل منتہا کو کہتے ہیں۔ اس تک پہنچنے والے کو خواہ رنج و کوفت ہو یا شادمانی و مسرت ۔ یہ ان دونوں معنوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہر صورت اسے مصبر و مآل (باز گشت ) کے معنی میں سمجھنا چاہیے اور ارشاد قرآنی ہے ۔ ”قُل تَمَنْعُوا فَانً مَصِبْرَ کُمْ اِلَی النًار“(کہو کہ تم دنیا سے اچھی طرح حظ اٹھا لو تو تمہاری باز گشت جہنم کی طرف ہے ) یہاں مصبر کم کی بجائے سیقنکم کہنا کسی طرح صحیح و درست نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس میں غور و فکر کرو اور دیکھو کہ اس کا باطن کتنا عجیب اور اس کا گہراوٴ نطافتوں کو لئے ہوئے کتنی دور تک چلا گیا ہے اور حضرت امام علی علیہ السلام کا بیشتر کلام اسی انداز پر ہوتا ہے اور بعض روایتوں میں ”السبقة بصم سین“ بھی آیا ہے اور سبقة اُس مال و متاع کو کہتے ہیں جو آگے نکل جانے والے کیلئے بطور انعام رکھا جاتا ہے ۔ بہر صورت دونوں کے معنی قریب قریب یکساں ہیں اس لئے کہ معاوضہ و انعام کسی قابل مذمت فعل پر نہیں ہوتا۔ بلکہ کسی اچھے اور لائق ستائش کارنامے کے بدلے ہی میں ہوتا ہے ۔
بشکریہ مباھلہ ڈاٹ کام
پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


امیرالمؤمنین علیہ السلام کے منتخب خطبات 23



جس میں فقراء کو زہد اور سرمایہ داروں کو شفقت کی ہدایت دی گئی ہے  ۔
ہر شخص کے مقسوم میں جو کم یا زیادہ ہوتا ہے ، اسے لے کر فرمان قضا آسمان سے زمین پر اس طرح اترتے ہیں جس طرح بارش کے قطرات لٰہذا اگر کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے اہل و مال و نفس میں فراوانی و وُسعت پائے تو یہ چیز اس کے لئے کبیدگی خاطر کا سبب نہ بنے۔ جب تک کوئی مرد مسلمان کسی ایسی ذلیل حرکت کا مرتکب نہیں ہوتا کہ جو ظاہر ہو جائے، تو اس کے تذکرہ سے اسے آنکھیں نیچی کرنا پڑیں اور جس سے ذلیل آدمیوں کی جراٴت بڑھے ۔ وہ اس کامیاب جواری کے مانند ہے جو جوئے کے تیروں کا پانسہ پھینک کر پہلے مرحلے پر ہی ایسی جیت کا متوقع ہوتا ہے ، جس سے اسے فائدہ حاصل ہو اور پہلے نقصان ہو بھی چکا ہے ، تو وہُ دور ہو جائے ۔ اسی طرح وہ مسلمان بد دیانتی سے پاک دامن ہو، وہ اچھائیوں میں سے ایک کا منتظر رہتا ہے ۔ یا اللہ کی طرف سے بلاوا آئے تو اس شکل میں اللہ کے یہاں کی نعمتیں ہی اس کے لئے بہتر ہیں اور یا للہ تعالیٰ کی طرف سے (دنیا کی ) نعمتیں حاصل ہوں تو ا س صورت میں اس کے مال بھی ہے اور اولاد بھی اور پھر اس کا دین اور عزتِ نفس بھی برقرار رہے۔ بیشک مال و اولاد دنیا کی کھیتی اور عمل صالح آخرت کی کشتِ زار ہے اور بعض لوگوں کے لئے اللہ ان دونوں چیزوں کو یکجا کر دیتا ہے ۔ جتنا اللہ نے ڈرایا ہے اتنا اس سے ڈرتے رہو اور اتنا اس سے خوف کھاؤ کہ تمہیں عذر نہ کرنا پڑے ۔ عمل بے ریا کرو اس لئے کہ جو شخص کسی اور کے لئے عمل کرتا ہے ۔ اللہ اس کو اسی کے حوالہ کر دیتا ہے ہم اللہ سے شہیدوں کی منزلت نیکوں کی ہمدمی اور انبیاء کی رفاقت کا سوال کرتے ہیں۔
اے لوگو! کوئی شخص بھی اگرچہ وہ مالدار ہو اپنے قبیلہ والوں اور اس امر سے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اس حمایت کریں بے نیاز نہیں ہو سکتا اور وہی لوگ سب سے زیادہ اس کے پشت پناہ اوراس کی پریشانیوں کو دور کرنے والے اور مصیبت پڑنے کی صورت میں اس پر شفیق و مہربان ہوتے ہیں۔ اللہ جس شخص کا سچا ذکرِ خیر لوگوں میں برقرار رکھتا ہے ۔ تو یہ اس مال سے کہیں بہتر ہے ۔ جس کا وہ دوسروں کو وارث بنا جاتا ہے ۔
اسی خطبہ کا ایک جزیہ ہے ۔
دیکھو تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے قریبیوں کو فقر و فاقہ میں پائے تو ان کی احتیاج کو اس امداد سے دُور کرنے میں پہلو تہی نہ کرے جس کے روکنے سے یہ کچھ بڑھ نہ جائے گا اور صرف کرنے سے اس میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ جو شخص اپنے قبیلے کی اعانت سے ہاتھ روک لیتا ہے ۔ تو اس کا تو ایک ہاتھ رکتا ہے لیکن وقت پڑنے پر بہت سے ہاتھ اس کی مدد سے رُک جاتے ہیں جو شخص نرم خو ہو وہ اپنی قوم کی محبت ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے شریف رضی فرماتے ہیں کہ یہاں پر غفیرة کے معنی کثرت و زیادتی کے ہیں اور یہ عربوں کے قول الجم الغفیر اور الجماء الغفیر (اژدہام) سے ماخوذ ہے اور بعض روایتوں میں غفیرہ کے بجائے عفوہ ہے اور عفوہ کسی شے کے عمدہ اور منتخب حصہ کو کہتے ہیں۔ یوں کہا جاتا ہے اکلت عفو ة الطعام یعنی میں نے منتخب اور عمدہ کھانا کھایا ۔ ومن یقبض یدہ عن عشیرتہ (تا آخر کلام) کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس جملہ کے معنی کتے حسین و دلکش ہیں ۔ حضرت کی مراد یہ ہے کہ جو شخص اپنے قبیلہ سے حُسنِ سلوک نہیں کرتا س نے ایک ہی ہاتھ کی منفعت کو روکا۔ لیکن جب ان کی امداد کی ضرورت پڑے گی ۔ اور ان کی ہمدردی و اعانت کے لیے لاچار و مضطر ہو گا تو وہ ان سے بہت سے بڑھنے والے ہاتھوں اور اٹھنے والے قدموں کی ہمدردریوں اور چارہ سازیوں سے محروم ہو جائے گا۔
پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان



Thursday, April 21, 2011

دُعاءِ كُمَيلْ

دُعاءِ كُمَيلْ












Wednesday, April 20, 2011

Dua-e-Kumail

O Allah! Bless Muhammad and his progeny.
O Allah! I beseech Thee by Thy mercy which encompasses all things And by Thy power by which Thou overcometh all things and submit to it all things and humble before it all things And by Thy might by which Thou hast conquered all things And by Thy majesty against which nothing can stand up
And by Thy grandeur which prevails upon all things And by Thy authority which is exercised over all things And by Thy own self that shall endure forever after all things have vanished And by Thy Names which manifest Thy power over all things And by Thy knowledge which pervades all things And by the light of Thy countenance which illuminates everything O Thou who art the light!
O Thou who art the most holy! O Thou who existed before the foremost! O Thou who shall exist after the last!
O Allah! Forgive me my such sins as would affront my continency O Allah! Forgive me my such sins as would bring down calamity
O Allah! Forgive me my such sins as would change divine favours (into disfavours (O Allah! Forgive me my such sins as would hinder my supplication O Allah! Forgive me such sins as bring down misfortunes (or afflictions) O Allah! Forgive my such sins as would suppress hope
O Allah! Forgive every sin that I have committed and every error that I have erred O Allah! I endeavour to draw myself nigh to Thee through Thy invocation And I pray to Thee to intercede on my behalf And I entreat Thee by Thy benevolence to draw me nearer to Thee And grant me that I should be grateful to Thee and inspire me to remember and to invoke Thee
O Allah! I entreat Thee begging Thee submissively, humbly and awestrickenly To treat me with clemency and mercy, and to make me pleased and contented with what Thou hast allotted to me And cause me to be modest and unassuming in all circumstances
O Allah! I beg Thee as one who is passing through extreme privation and who supplicates his needs to Thee and his hope has been greatly raised by that which is with Thee
O Allah! Great is Thy kingdom and exalted is Thy greatness Thy plan is secret, Thy authority is manifest, Thy might is victorious and subduing and Thy power is prevalent throughout and it is not possible to escape from Thy dominion
O Allah! Except Thee I do not find any one able to pardon my sins nor to conceal my loathsome acts Nor have I any one except Thee to change my evil deeds into virtues There is no god but Thou glory and praise be to Thee I have made my own soul to suffer I had the audacity (to sin) by my ignorance Relying upon my past remembrance of Thee and Thy grace towards me
O Allah! My Lord! How many of my loathsome acts hast Thou screened (from public gaze) How many of my grievous afflictions (distresses) hast Thou reduced in severity And how many of my stumblings hast Thou protected, how many of my detestable acts has Thou averted, and how many of my undeserving praises hast Thou spread abroad!
O Allah! My trials and sufferings have increased and my evilness has worsened, my good deeds have diminished and my yokes (of misdeeds) have become firm And remote hopes restrain me to profit (by good deeds) and the world has deceived me with its allurements and my own self has been affected by treachery and procrastination
Therefore, my Lord! I implore Thee by Thy greatness not to let my sins and my misdeeds shut out access to my prayers from reaching Thy realm and not to disgrace me by exposing those (hidden ones) of which Thou hast knowledge nor to hasten my retribution for those vices and misdeeds committed by me in secret which were due to evil mindedness, ignorance, excessive lustfulness and my negligence
O Allah! I beg Thee by Thy greatness to be compassionate to me in all circumstances and well disposed towards me in all matters My God! My Nourisher! Have I anyone except Thee from whom I can seek the dislodging of my evils and understanding of my problems?
My God! My Master! Thou decreed a law for me but instead I obeyed my own low desires And I did not guard myself against the allurements of my enemy He deceived me with vain hopes whereby I was led astray and fate helped him in that respect Thus I transgressed some of its limits set for me by Thee and I disobeyed some of Thy commandments;
Thou hast therefore a (just) cause against me in all those matters and I have no plea against Thy judgement passed against me I have therefore become (justifiably) liable to Thy judgement and afflictions
But now I have turned Thee, my Lord, after being guilty of omissions and transgressions against my soul, apologetically, repentantly, broken heartedly, entreating earnestly for forgiveness, yieldingly confessing (to my guilt) as I can find no escape from that which was done by me and having no refuge to which I could turn except seeking Thy acceptance of my excuse and admitting me into the realm of Thy capacious mercy
O Allah! Accept my apology and have pity on my intense sufferings and set me free from my heavy fetters (of evil deeds) My Nourisher! Have mercy on the infirmity of my body, the delicacy of my skin and the brittleness of my bones O' Thou!
Who originated my creation and (accorded me) my individuality, and (ensured) my upbringing and welfare (and provided) my sustenance (I beg Thee) to restore Thy favours and blessings upon me as Thou didst in the beginning of my life
O' my God! My master! My Lord! And my Nourisher! What! Wilt Thou see me punished with the fire kindled by Thee despite my belief in Thy unity?
And despite the fact that my heart has been filled with (pure) knowledge of Thee and when my tongue has repeatedly praised Thee and my conscience has acknowledged Thy love and despite my sincere confessions (of my sins) and my humble entreaties submissively made to Thy divinity?
Nay, Thou art far too kind and generous to destroy one whom thyself nourished and supported, or to drive away from Thyself one whom Thou has kept under Thy protection, or to scare away one whom Thy self hast given shelter, or to abandon in affliction one Thou hast maintained and to whom Thou hast been merciful
I wish I had known o' my Master, my God and my Lord! Wilt Thou inflict fire upon faces which have submissively bowed in prostration to Thy greatness, or upon the tongues which have sincerely confirmed Thy unity and have always expressed gratitude to Thee, or upon hearts which have acknowledged Thy divinity with conviction, or upon the minds which accumulated so much knowledge of Thee until they became submissive to Thee, or upon the limbs which strove, at the places appointed for Thy worship, to adore Thee willingly and seek Thy forgiveness submissively?
Such sort (of harshness) is not expected from Thee as it is remote from Thy grace, o' generous one! O' Lord! Thou art aware of my weakness to bear even a minor affliction of this world and its consequence and adversity affecting the denizen of this earth, although such afflictions are momentary, short-lived and transient
How then can I bear the retributions and the punishments of the hereafter which are enormous and of intensive sufferings, of prolonged period and perpetual duration, and which shall never be alleviated for those who deserve the same as those retributions will be the result of Thy wrath; and Thy punishment which neither the heavens nor the earth can withstand and bear! My Lord!
How can I, a weak, insignificant, humble, poor and destitute creature of Thine be able to bear them?
O' my God! My Lord! My King! And Master! Which of the matters shall I complain to Thee and for which of them shall I bewail and weep? shall I bewail for the pains and pangs of the punishment and their intensity or for the length of sufferings and their duration?
Therefore (my Lord!) If Thou wilt subject me to the penalties (of hell) in company of Thy enemies and cast me with those who merited Thy punishments and tear me apart from Thy friends and those who will be near to Thee, then my God, my Lord and my Master, though I may patiently bear Thy punishments, how can I calmly accept being kept away from Thee?
I reckon that though I may patiently endure the scorching fire of Thy hell, yet how can I resign myself to the denial of Thy pity and clemency? How can I remain in the fire while I have hopes of Thy forgiveness?
O' my Lord! By Thy honour truly do I swear that, if Thou wilt allow my power of speech to be retained by me in the hell, I shall amongst its inmates cry out bewailingly unto Thee like the cry of those who have faith in Thy kindness and compassion And I shall bemoan for Thee (for being deprived of nearness to Thee) the lamentation of those who are bereaved, and I shall keep on calling unto Thee: "Where art Thou o' Friend of the believers! O' (Thou who art) the last hope and resort of those who acknowledge Thee and have faith in Thy clemency and kindness; o' Thou who art the helper of those seeking help! O' Thou who art dear to the hearts of those who truly believe in Thee! And o' Thou who art the Lord of the universe."
My Lord! Glory and praise be to Thee, wouldst Thou (wish) to be seen (disregarding) the voice of a muslim bondman, incarcerated therein (the hell) for his disobedience and imprisoned within its pits for his evildoings and misdeeds, crying out to Thee the utterance of one who has faith in Thy mercy and calling out to Thee in the language of those who believe in Thy unity and seeking to approach Thee by means of Thy epithet "the Creator, the Nourisher, the Accomplisher and the Protector of the entire existence"?
My Lord! Then how could he remain in torments when he hopefully relies upon Thy past forbearance, compassion and mercy?
And how can the fire cause him suffering when he hopes for Thy grace and mercy and how can its roaring flames char him when Thou hearest his voice and sees his plight? And how can he withstand its roaring flames when Thou knowest his fraility? And how can he be tossed about between its layers when Thou knowest his sincerity?
And how can the guards of hell threaten him when he calls out to Thee? "My Lord", and how would Thou abandon him therein (the hell) when he has faith in Thy grace to set him free?
Alas! That is not the concept (held by us) of Thee nor has Thy grace such a reputation nor does it resemble that which Thou hast awarded by Thy kindness and generosity to those who believe in Thy unity I definitely conclude that hadst Thou not ordained punishment for those who disbelieved in Thee, and hadst Thou not decreed Thy enemies to remain in hell,
Thou wouldst have made the hell cold and peaceful and there would never have been an abode or place for any one in it; but sanctified be Thy Names, Thou hast sworn to fill the hell with the disbelievers from amongst the jinns and mankind together and to place forever Thy enemies therein
And Thou, exalted be Thy praises, hadst made manifest, out of Thy generosity and kindness, that a believer is not like unto him who is an evil-liver.
My Lord! My Master! I, therefore implore Thee by that power which Thou determineth and by the decree which Thou hast finalised and ordained whereby Thou hath prevailed upon whom
Thou hast imposed it, to bestow upon me this night and this very hour the forgiveness for all the transgressions that I have been guilty of, for all the sins that I have committed, for all the loathsome acts that I have kept secret and for all the evils done by me, secretly or openly, in concealment or outwardly and for every evil action that Thou hast ordered the two noble scribes to confirm whom Thou hast appointed to record all my actions and to be witnesses over me along with the limbs of my body, whilst Thou observeth over me besides them and wast witness to those acts concealed from them?
Which Thou in Thy mercy hast kept secret and through Thy kindness unexposed and I pray to Thee to make my share plentiful in all the good that Thou dost bestow; in all the favours that Thou dost grant; and in all the virtues that Thou dost allow to be known everywhere; and in all the sustenance and livelihood that Thou dost expand and in respect of all the sins that Thou dost forgive and the wrongs that Thou dost cover up O' Lord! O' Lord! O' Lord!
O' my God! My Lord! My King! O' Master of my freedom! O' Thou who holdeth my destiny and who art aware of my suffering and poverty,
O' Thou who knoweth my destitution and starvation, o' my Lord! O' Lord, o' Lord! I beseech Thee by Thy glory and Thy honour, by Thy supremely high attributes and by Thy names to cause me to utilise my time, day and night, in Thy remembrance, by engaging myself in serving Thee (Thy cause) and to let my deeds be such as to be acceptable to Thee, so much so that all my actions and offerings (prayers) may be transformed into one continuous and sustained effort and my life may take the form of constant and perpetual service to Thee
O' my Master! O' Thou upon Whom I rely! O' Thou unto Whom I express my distress!
O' my Lord! My Lord! My Lord! Strengthen my limbs for Thy service and sustain the strength of my hands to persevere in Thy service and bestow upon me the eagerness to fear Thee and constantly to serve Thee
So that I may lead myself towards Thee in the field with the vanguards who are in the fore rank and be swift towards Thee among those who hasten towards Thee and urge eagerly to be near Thee and draw myself towards Thee like them who sincerely draw themselves towards Thee and to fear Thee like the fear of those who believe firmly in Thee and thus I may join the congregation of the faithful congregated near Thee (for protection)
O' Allah! Whosoever intendeth evil against me, let ill befall on him and frustrate him who plots against me and assign for me a place in Thy presence with the best of Thy bondsmen and nearer abode to Thee, for verily that position cannot be attained except through Thy grace and treat me benevolently, and through Thy greatness extend
Thy munificence towards me and through Thy mercy protect me and cause my tongue to accentuate Thy remembrance and my heart filled with Thy love and be liberal to me by Thy gracious response and cause my evils to appear fewer and forgive me my errors.
For verily, Thou hast ordained for Thy bondsmen Thy worship and bidden them to supplicate unto Thee and hast assured them (of Thy) response
So, my Lord! I look earnestly towards Thee and towards Thee, my Lord! I have stretched forth my hands therefore, by Thy honour, respond to my supplication and let me attain my wishes and, by Thy bounty, frustrate not my hopes and protect me from the evils of my enemies, from among the jinns and mankind o' Thou! Who readily pleased, forgive one who owns nothing but supplication for Thou doest what Thou willest o' Thou!
Whose Name is the remedy (for all ills) and Whose remembrance is a sure cure for all ailments and obedience to Whom makes one self sufficient; have mercy on one whose only asset is hope and whose only armour is lamentation O' Thou! Who perfecteth all bounties and Who wardeth off all misfortunes!
O' Light! Who illuminateth those who are in bewilderment! O' Omniscient! Who knoweth without (acquisition of) learning! Bless Mohammed and the Descendants of Mohammed and do unto me in accordance with that which befitteth Thee,
and deal with me not in accordance to my worth May the blessings of Allah be bestowed upon His Apostle and the Rightful Imams from his Descendants and His peace be upon them plentifully

Tuesday, March 1, 2011

دعا ئے کمیل

دعائے کمیل

 اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے ذریعے جوہر شی پر محیط ہے تیری قوت کے ذریعے جس سے تو نے ہر شی کو زیر نگیں کیا اور اس کے سامنے ہر شی جھکی ہوئی اور ہر شی زیر ہے اور تیرے جبروت کے ذریعے جس سے توہر شی پر غالب ہے تیری عزت کے ذریعے جسکے آگے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں تیری عظمت کے ذریعے جس نے ہر چیز کو پر کر دیا تیری سلطنت کے ذریعے جو ہر چیز سے بلند ہے تیری ذات کے واسطے سے جوہر چیز کی فنا کے بعد باقی رہے گی اورسوال کرتا ہوں تیرے ناموں کے ذریعے جنہوں نے ہر چیز کے اجزاء کو پر کر رکھا ہے تیرے علم کے ذریعے جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور تیری ذات کے نور کے ذریعے جس سے ہر چیز روشن ہوئی ہے یانور یاقدوس  اے اولین میں سب سے اول اور اے آخرین میں سب سے آخر اے معبود میرے ان گناہوں کو معاف کر دے جو پردہ فاش کرتے ہیں خدایا! میرے وہ گناہ معاف کر دے جن سے عذاب نازل ہوتا ہے خدایا میرے وہ گناہ بخش دے جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں اے معبود! میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا کو روک لیتے ہیں اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہے اے خدا میرا ہر وہ گناہ معاف فرما جو میں نے کیا ہےاور ہر لغزش سے درگزر کر جو مجھ سے ہو ئی ہے اے اللہ میں تیرے ذکر کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں اور تیری ذات کو تیرے حضور اپنا سفارشی بناتا ہوں تیرے جود کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپناقرب عطا فرما اور توفیق دے کہ تیرا شکر ادا کروں اور میری زبان پر اپنا ذکر جاری فرما اے اللہ میں سوال کرتا ہوں جھکے ہوئے گرے ہوئے ڈرے ہوئے کیطرح کہ مجھ سے چشم پوشی فرما مجھ پر رحمت کر اور مجھے اپنی تقدیر پر راضی و قانع اور ہر قسم کے حالات میں نرم خو رہنے والا بنا دے یااللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کیطرح جو سخت تنگی میں ہو سختیوں میں پڑا ہواپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیاہوں اور جو کچھ تیرے پاس ہے اس میں زیادہ رغبت رکھتا ہوں اے اللہ تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے اور تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں خداوندا میں تیرے سوا کسی کو نہیں پاتا جو میرے گناہ بخشنے والا میری برائیوں کو چھپانے والا اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دینے والا ہو تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے ہے میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اپنی جہالت کی وجہ سے جرأت کی اور میں نے تیری قدیم یاد آوری اور اپنے لیے تیری بخشش پر بھروسہ کیا ہے اے اللہ : میرے مولا کتنے ہی گناہوں کی تو نے پردہ پوشی کی اور کتنی ہی سخت بلاؤں سے مجھے بچالیا کتنی ہی لغزشیں معاف فرمائیں اور کتنی ہی برائیاں مجھ سے دور کیں تو نے میری کتنی ہی تعریفیں عام کیں جن کا میں ہر گز اہل نہ تھا اے معبود! میری مصیبت عظیم ہے بدحالی کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے میرے اعمال بہت کم ہیں گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے لمبی آرزوؤں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے دنیا نے دھوکہ بازی سے اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے مجھ کو فریب دیا ہے اے میرے آقا میں تیری عزت کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تجھ سے نہ روکے اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کرے جن میں تو میرے راز کو جانتاہے اور مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر جو میں نے خلوت میں غلط کام کیا برائی کی ہمیشہ کوتاہی کی اس میں میری نادانی، خواہشوں کی کثرت اور غفلت بھی ہے اور اے میرے اللہ تجھے اپنی عزت کا واسطہ میرے لیے ہر حال میں مہربان رہ اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما میرے معبود میرے رب  تیرے سوا میرا کون ہے جس سے سوال کروں کہ میری تکلیف دور کر دے اور میرے معاملے پر نظر رکھ میرے معبود اور میرے مولا تو نے میرے لیے حکم صادر فرمایالیکن میں نے اس میں خواہش کا کہا مانا اور میں دشمن کی فریب کاری سے بچ نہ سکا اس نے میری خواہشوں میں دھوکہ دیااور وقت نے اسکا ساتھ دیا پس تو نے جو حکم صادر کیا میں نے اس میں تیری بعض حدود کو توڑا اور تیرے بعض احکام کی مخالفت کی پس اس معاملہ میں مجھ پر لازم ہے تیری حمد بجالانا اور میرے پاس کوئی حجت نہیں اس میں جو فیصلہ تو نے میرے لیے کیا ہے اور میرے لیے تیرا حکم اور تیری آزمائش لازم ہے اور اے اللہ میں تیرے حضور آیا ہوں جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پرزیادتی  کی ہے میں عذر خواہ و پشیماں،ہارا ہوا، معافی کا طالب، بخشش کا سوالی ،تائب گناہوں کا اقراری، سرنگوں اور اقبال جرم کرتا ہوں جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے نہ کوئی جا ئے پناہ کہ اپنے معاملے میں اسکی طرف توجہ کروں سوائے اسکے کہ تو میرا عذر قبول کر اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل کرلے اے معبود! بس میرا عذر قبول فرما میری سخت تکلیف پر رحم کر اور بھاری مشکل سے رہائی دے اے پروردگار میرے کمزور بدن، نازک جلد اور باریک ہڈیوں پر رحم فرما اے وہ ذات جس نے میری خلقت ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا آغاز کیا اپنے پہلے کرم اور گزشتہ نیکی کے تحت مجھے معاف فرما اے میرے معبودمیرے آقا اور میرے رب کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب دے گا جبکہ تیری توحید کا معترف ہوں اسکے ساتھ میرا دل تیری معرفت سے لبریز ہے اور میری زبان تیرے ذکر میں لگی ہوئی ہیمیرا ضمیر تیری محبت سے جڑا ہوا ہے اور اپنے گناہوں کے سچے اعتراف اور تیری ربوبیت کے آگے میری عاجزانہ پکار کے بعد بھی تو مجھے عذاب دے گا۔ ہرگز نہیں! تو بلند ہے اس سے کہ جسے پالا ہو اسے ضائع کرے یا جسے قریب کیا ہو اسے دور کرے یا جسے پناہ دی ہو اسے چھوڑ دے یا جسکی سرپرستی کی ہو اور اس پر مہربانی کی ہو اسے مصیبت کے حوالے کر دے اے کاش میں جانتا اے میرے آقا میرے معبود!اور میرے مولا کہ کیا تو ان چہروں کو آگ میں ڈالے گا جو تیری عظمت کے سامنے سجدے میں پڑے ہیں اور ان زبانوں کو جو تیری توحید کے بیان میں سچی ہیں اور شکر کے ساتھ تیری تعریف کرتی ہیں اور ان دلوںکو جو تحقیق کیساتھ تجھے معبود مانتے ہیں اور انکے ضمیروں کو جو تیری معرفت سے پر ہو کر تجھ سے خائف ہیں تو انہیںآ گ میں ڈالے گا؟ اور ان اعضاء کو جو فرمانبرداری سے تیری عبا دت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں اور یقین کے ساتھتیری مغفرت کے طالب ہیں (تو انہیں آگ میں ڈالے) تیری ذات سے ایسا گمان نہیں، نہ یہ تیرے فضلکے مناسب ہے اے کریم اے پروردگار! دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل تو میری ناتوانی کو جانتا ہے اور اہل دنیا پر جو تنگیاں آتی ہیں (میں انہیں برداشت نہیں کرسکتا) اگرچہ اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ اور بقاء کا وقت تھوڑا اور مدت کوتاہ ہے تو پھر کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گا جو بڑی سخت ہیں اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جنکی مدت طولانی ،اقامت دائمی ہے اور ان میں سے کسی میں کمی نہیں ہو گی اس لیے کہ وہ تیرے غضب تیرے انتقام اور تیری ناراضگی سے آتی ہیں اور یہ وہ سختیاں ہیں جنکے سامنے زمین وآسمان بھی کھڑے نہیں رہ سکتے تو اے آقا مجھ پر کیا گزرے گی جبکہ میں تیرا کمزور پست، بے حیثیت، بے مایہ اور بے بس بندہ ہوں اے میرے آقا اور میرے مولا! میں کن کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں اور کس کس کے لیے نالہ و شیون کروں؟ دردناک عذاب اور اس کی سختی کے لیے یا طولانی مصیبت اور اس کی مدت کی زیادتی کیلئے پس اگر تو نے مجھے عذاب و عقاب میں اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھااور مجھے اوراپنے عذابیوں کو اکٹھا کر دیا اور میرے اور اپنے دوستوں اور محبوں میں دوری ڈال دی تو اے میرے معبود میرے آقا میرے مولا اور میرے رب تو ہی بتا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر ہی لوں تو تجھ سے دوری پر کیسے صبر کروں گا؟ اور مجھے بتاکہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر ہی لیا تو تیرے کرم سے کسطرح چشم پوشی کرسکوں گا یا کیسے آگ میں پڑا رہوں گا جب کہ میں تیرے عفو و بخشش کا امیدوار ہوں پس قسم ہے تیری عزت کی اے میرے آقا اور مولا سچی قسم کہ اگر تو نے میری گویائی باقی رہنے دی تو میں اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گا آرزو مندوں کی طرح اور تیرے سامنے نالہ کروں گا جیسے مددگار کے متلاشی کرتے ہیں تیرے فراق میں یوں گریہ کروں گا جیسے ناامید ہونے والے گریہ کرتے ہیں اور تجھے پکاروں گا کہاں ہے تواے مومنوں کے مددگار اے عارفوں کی امیدوں کے مرکز اے بیچاروں کی داد رسی کرنے والے اے سچے لوگوں کے دوست اور اے عالمین کے معبود کیا میں تجھے دیکھتا ہوں تو پاک ہے اس سے اے میرے اللہ اپنی حمد کے ساتھ کہ تو وہاں سے بندہ مسلم کی آواز سن رہا ہے جو بوجہ نافرمانی دوزخ میں ہے اپنی برائی کے باعث عذاب کا ذائقہ چکھ رہا ہے اور اپنے جرم گناہ پر جہنم کے طبقوں کے بیچوں بیچ بند ہے وہ تیرے سامنے گریہ کر رہا ہے تیری رحمت کے امیدوار کی طرح اور اہل توحید کی زبان میں تجھے پکار رہا ہے اور تیرے حضور تیری ربوبیت کو وسیلہ بنا رہا ہے اے میرے مولا! پس کس طرح وہ عذاب میں رہے گا جب کہ وہ تیرے گزشتہ حلم کا امیدوار ہے یا پھر آگ کیونکر اسے تکلیف دے گی جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کی امید رکھتا ہے یا آگ کے شعلے کیسے اس کو جلائیں گے جبکہ تو اسکی آواز سن رہا ہے اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہے یا کیسے آگ کے شرارے اسے گھیریں گے جبکہ تو اسکی ناتوانی کو جانتا ہے یا کیسے وہ جہنم کے طبقوں میں پریشان رہے گا جبکہ تو اس کی سچائی سے واقف ہے یا کیسے جہنم کے فرشتے اسے جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہے اے میرے رب یا کیسے ممکن ہے کہ وہ خلاصی میں تیرے فضل کا امیدوار ہو اور تو اسے جہنم میں رہنے دے ہرگز نہیں! تیرے بارے میں یہ گمان نہیں ہو سکتا نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف ہے نہ یہ توحید پرستوں پر تیرے احسان و کرم سے مشابہ ہے پس میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے دشمنوں کو آگ کا عذاب دینے کا حکم نہ دیا ہوتا اور اپنے مخالفوں کوہمیشہ اس میں رکھنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ضرور تو آگ کو ٹھنڈی اور آرام بخش بنا دیتا اور کسی کو بھی آگ میں جگہ اور ٹھکانہ نہ دیا جاتا لیکن تو نے اپنے پاکیزہ ناموں کی قسم کھائی کہ جہنم کو تمام کافروں سے بھر دے گا جنّوں اور انسانوں میں سے اور یہ مخالفین ہمیشہ اس میں رہیں گے اور تو بڑی تعریف والا ہے تو نے فضل و کرم کرتے ہوئے بلا سابقہ یہ فرمایا کہ کیا وہ شخص جو مومن ہے وہ فاسق جیسا ہو سکتا ہے؟یہ دونوں برابر نہیں میرے معبود میرے آقا! میں تیری قدرت جسے تو نے توانا کیا اور تیرا فرمان جسے تو نے یقینی و محکم بنایا اور تو غالب ہے اس پر جس پر اسے جاری کرے اسکے واسطے سے سوال کرتا ہوں بخش دے اس شب میں اور اس ساعت میں میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں جو نادانیاں میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں علی الاعلان یا پوشیدہ، رکھی ہوں یا ظاہر کیں ہیں اور میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبینکو حکم دیا ہے جنہیں تو نے مقرر کیا ہے کہ جو کچھ میں کروں اسے محفوظ کریں اور ان کو میرے اعضاء کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا اور انکے علاوہ خود تو بھی مجھ پر ناظر اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے حالانکہ تو نے اپنی رحمت سے اسے چھپایا اور اپنے فضل سے اس پر پردہ ڈالاوہ معاف فرما اور میرے لیے وافر حصہ قرار دے ہر اس خیر میں جسے تو نے نازل کیا یا ہر اس احسان میں جو تو نے کیا یا ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا رزق میں جسے تو نے وسیع کیا یا گناہ میں جسے تو معاف نے کیا یا غلطی میں جسے تو نے چھپایا یارب یا رب یا رب اے میرے معبود میرے آقا اورمیرے مولا اور میری جان کے مالک اے وہ جسکے ہاتھ میں میری لگام ہے اے میری تنگی و بے چارگی سے واقف اے میری ناداری و تنگدستی سے باخبر یارب یارب یارب میں تجھ سے تیرے حق ہونے، تیری پاکیزگی، تیری عظیم صفات اور اسماء کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر اور مسلسل اپنی حضوری میں رکھ اور میرے اعمال کو اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما حتی کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور ورد قرار پائیں اور میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے اے میرے آقا اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے اے جس سے میں اپنے حالات کی تنگی بیان کرتا ہوں یارب یارب یارب میرے ظاہری اعضاء کو اپنی حضوری میں قوی اور میرے باطنی ارادوں کو محکم و مضبوط بنا دے اور مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش کروں اور تیری حضوری میں ہمیشگی پیدا کروں تاکہ تیری بارگاہ میں سابقین کی راہوں پر چل پڑ و ں اور تیری طر ف جا نے والوں سے آگے نکل جا ؤں تیرے قرب کا شوق رکھنے والوںمیں زیادہ شوق والا بن جاؤں تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جاؤں اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں اے معبود جو میرے لئے برائی کا ارادہ کرے تو اسکے لئے ایسا ہی کر جو میرے ساتھ مکر کر ے تو اسکے ساتھ بھی ایسا ہی کر مجھے اپنے بند و ں میں قر ار دے جو نصیب میں بہتر ہیں جومنزلت میں تیرے قریب ہیں جو تیرے حضور تقرب میں مخصوص ہیں کیونکہ تیرے فضل کے بغیر یہ درجات نہیں مل سکتے بواسطہ اپنے کرم کے مجھ پر کرم کر بذریعہ اپنی بزرگی کے مجھ پر توجہ فرما بوجہ اپنی رحمت کے میری حفاظت کر میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا فرما اور میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا دیمیری دعا بخوبی قبول فرما مجھ پر احسان فرما میرا گناہ معاف کر دے اور میری خطا بخش دے کیونکہ تو نے بندوں پر عبادت فرض کی ہے اور انہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور قبولیت کی ضمانت دی پس اے پروردگار میں اپنا رخ تیری طرف کر رہا ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہوں تو اپنی عزت کے طفیل میری د عا قبول فرما میری تمنائیں برلا اور اپنے فضل سے لگی میری امید نہ توڑ میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر اے جلدرا ضی ہونے والے مجھے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں ر کھتا بے شک تو جو چا ہے کرنے والاہے اے وہ جس کا نام دوا جس کا ذکر شفا اور اطاعت تونگری ہے رحم فرما اس پرجس کا سرمایہ محض امید ہے اور جس کا ہتھیار گریہ ہے اے نعمتیں پوری کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا محمد آل(ع) محمد پر رحمت فرما مجھ سے وہ سلوک کر جس کا تو اہل ہے خدا اپنے رسول پر اور بابرکت آئمہ پرسلام بھیجتا ہے بہت زیادہ سلام وتحیات جو انکی آل(ع) میں سے ہیں۔




Sunday, December 5, 2010

تلخ حقيقت

تلخ حقيقت
انسان جي سوچ پئسن جي باري ۾ ڪيڏي نه عجيب آهي..
فقير سامهون ايندو آهي ته کيسي ۾ هڻي گهٽ ۾ گهٽ ملهه رکندڙ پيسن (يعني هڪ يا ٻه روپين جي سڪي) جي ڳولا شروع ڪندا آهيون جيڪڏهن هوندو ته ڪڍي ڏينداسين جيڪڏهن نه ته روايتي راڳ ورجائينداسين ته ”معاف ڪر“
ان جي بلڪل ابتڙ جيڪڏهن ڪو گناه جو ڪم (يعني فحاش عورتن جو ناچ، شراب پيئڻ ) هجي ۽ ان ۾ رقم جو وڏو استعمال ٿئي ته کيسي ۾ هٿ هڻي ان وڏي ۾ وڏي رقم کي ڳولڻ شروع ڪندا سين جي هوندي ته ٺيڪ جيڪڏهن نه هوندي ته اوڌر کڻي به اهو ڪم پورو ڪنداسين .

Sunday, August 15, 2010


اسان تي اک آسمانن جي

ڏڪاريل زمينن جي آباد ٿيڻ جي لاءِ برسات جون دعائون گهرندڙ ماڻهن جي دعائن رنگ لاتو ۽ برساتين جو هڪ نئون سلسلو شروع ٿيو. برسات بوندن سان پاڻيءَ جي سِڪايل آبادگارن جي دلين ۾ هڪ نئون بهار اچي ويو ۽ کين سندن پوک جو مستقبل بهتر ٿيندي نظر اچي رهيو هيو، پر چوندا آهن ته غريب جا ڀاڳ به غريب. اڃان برسات جون خوشيون ملهائندڙ سنڌ جي آبادگارن جي منهن تي مرڪون باقي هيون ته ڏسندي ئي ڏسندي اهو برسات جو پاڻي رحمت مان ذهمت بڻجڻ لڳو. پهريان کان پاڻيءَ جي کوٽ سبب ستايل ڳوٺاڻن برسات کانپو۽ جڏهن ٿورو سک جو ساهه کنيو هيو انهن کي اها خبر نه هئي ته مٿن ڏکن ۽ تڪليفن جا پهاڙ ٽٽڻ وارا هئا
اڃان تائين سنڌساريءَ ۾ کليو قتلام جاري هو
ڪڇڻ وارا ڪُسن پيا هت، مڃيوسين سچ ڏوهاري هو
مٿان اک آسمانن جي به منهنجي سنڌ تي ڇو هئي
حقن جي جنگ وڙهندڙ سنڌ جي هر جند تي ڇو هي
گهريون توکان هيون سنڌوءَ جي سيرابيءَ سنديون موجون
فصل آباد ٿين خوشحال ٿين هن سنڌ جا ماڻهون.
هتي مهراڻ جي موجن ۾ نياپا موت جا آهن
مان ڪيئن برداشت ڪيان، مرڪون، جياپا موت جا آهن

واهن ۽ دريائن ۾ وڌندڙ پاڻيءَ کي ڏسي بس پو۽ اهي ڳوٺاڻا درياءَ جي بند ڏانهن هر هر واجهائيندي سِرَ جي سلامتيءَ جون دعائون گهري رهيان هئا ته اي مالــڪ ن بند جي حفاظت ڪجائن... پر شايد زماني جي رگينين ۾ گم ٿي اسان پنهنجي پالڻهار کان ايترو پري ٿي ويا هئا سين جو اسان جو مالڪ اسانجي ڪڌن ڪمن جي ڪري اسان کان ناراض ٿي چڪو هيو (والله اعلم). اڃان گهر جو هر ڀاتي سلامت هيو ۽ ٻارڙا خوشيءَ منجهان راند رلي رهيا هئا، ڳوٺاڻن کي به ڪجهه دلاسا هيا ڇو ته حڪومت ان ڳوٺ جي حصي ۾ ايندڙ بند مضبوط چئي ان علائقي کي محفوظ قرار ڏنو هيو. حالت بهتر ئي هيا ته ڪنهن ڊوڙندي اچي ٻڌايو ته اڳئين ڳوٺ جي وڏيري سندن ٻڏڻ جي خوف کان سامهون واري بند کي گهارو هنيو آهي. پاڻيءَ جي ڳوٺ ڏانهن وڌڻ جي خبر تي سڄي ڳوٺ ۾ ڪهرام مچي ويو ۽ هر ماڻهون پنهنجي اجهي بچائڻ جي ڪوششن ۾ لڳي ويو پر پاڻي جي رفتار ۽ وڌندڙ وهڪرو سندس هر ڪوشس کي ناڪام بڻائي ڇڏيو ۽ پاڻي گهرن اندر ڪاهي پيو. چڪاس دوران محفوظ قرار ڏنل بند وٽ حفاظتي عملي کي مقرر ڪرڻ جي ضرورت محسوس نه ٿي هئي. ڳوٺ جو پري هئڻ ۽ مواصلاتي نظام متاثر ٿيڻ سبب انتظاميه کي صورتحال کان آگاهي نه ملي سگهي. وقت سر حفاظتي اپاءَ نه هئڻ سبب ڪيترائي ڳوٺاڻا ان ٻوڏ جي ويري وهڪري ۾ لڙهي ويا. جيسين انتظاميه تائين اطلاع پهتو تيسيتائين ڪيتريون ئي جهوليو اجڙي چڪيون هيون. ڪيترا ئي ٻار يتيم ٿي چڪا هئا. اجهن جي حفاظت ۾ رڌل اهي ڳوٺاڻا جيڪي همٿ نه هاريندي مسلسل پنهنجي ڪوششون ڪري رهيا هئا ته شال سندن اجهو بچي پئي. وڌندڙ پاڻي ۽ ٻچڙن جي حياتن کين اجها ڇڏڻ تي مجبور ڪري ڇڏيو ۽ جان آ ته جهان واري چوڻي جي پيروي ڪندي نڪري پيا ۽ سندن دلين مان مسلسل ان بي رحم وڏيري جي لاءِ پِٽون ۽ پاراتا نڪري رهيا هئا. پنهنجي ۽ ٻچڙن جي جان بچائڻ جي لاءِ انهن ڳوٺاڻن کي اتي موجود ڪيترائي فٽ پاڻيءَ جو پيٽ چيري نڪرڻو هيو نوجوان مرد ۽ عورتون هڏن ۾ صلاحيت هئڻ سبب پاڻيءَ مان نڪرڻ ۾ ڪامياب ٿي ويا پر معصوم ٻارڙن ۽ پيرسن ماڻهن جي لا۽ اها موت ۽ زندگيءَ جي جنگ کٽڻ ناممڪن ٿي پئي. پنهنجي حويليءَ جي ايئرڪنڊيشن ڪمرن ۾ سڪون جي ننڊ ستل وهشي وڏيري کي شايد اهو احساس نه ٿيو ته صرف پنهنجون زمينون بچائڻ جي لالچ ۾ هن ڪيترين ئي معصوم ۽ بي گناه حياتين کي موت جي منهن ۾ ڌڪي ڇڏيو هيو. ۽ سڀ ڪجهه برباد ٿيڻ کانپوءِ ان گهاري جي خبر انتظاميه تائين پهچائي ٿو. جنهن کانپوءِ ڦاٿل ڳوٺاڻن کي محفوظ مقامن تي نيو وڃي ٿو. جتي ماشاءَ الله اسانجي ميڊيا وارا پنهنجي جان جوکي ۾ وجهي ساري لوڪ کي متاثرين جي حالتن باري ۾ آگاهي ته ڏين ٿا پر انهن جي سوال پڇڻ جو انداز ڪجهه عجيب آهي ته: اوهانجي جيڪا تباهي ٿي آهي ڇا اوهانجو ڪجهه بچيو آهي ۽ حڪومت اوترو اوهانکي ڏنو آهي؟ جان آ ته جهان جي چوڻيءَ تي عمل ڪندي نڪتل ڳوٺاڻا جن کان سندن تباه ٿيندڙ ڪيترائي سال پراڻا اجها نه وسريا هئا. انهن جي دلين مان درد ڀريون داهون نڪرن ٿيون ته اسان جو ڪجه به نه بچيو آهي ۽ نه ئي مليو آهي، صرف هڪ جهوپڙي ، پاڻي ۽ ويلي تي چانور ملن پيا پر اسانجي اجهن جا سک برباد ٿي ويا اسانکي اجها ڏيو يا انهن کي وري آباد ڪرڻ جي رقم ڏيو. ميڊيا وارن دوستن کي اها گذارش آهي ته تباهه ٿيل علائقن مان پهريان پاڻيءَ جي نيڪاليءَ جو عمل هوندو آهي جنهن ۾ گهٽ ۾ گهٽ 1 سال جو عرصو لڳي سگهي ٿو جيڪڏهن زمين صحيح طرح سان سڪل نه هوندي ته ان تي اڏيل جيڪي گهر اڏيا ويندا اهي گهڻو وقت نه هلي سگهندا ۽ وري برسات جي موسم ۾ خطرناڪ پڻ هوندا. جيڪڏهن متاثرن کي خيمن ۾ حڪومت، عوام ۽ ٻين سماجي تنظيمن پاران کاڌ خوراڪ جو سامان ملي پيو ته کين تباه ٿيل اجهن جي ياد ڏياري انهن جي زخمن تي لوڻ نه ٻرڪيو وڃي. انجي سمجهاڻي هڪ تمام دلير ۽ بلند حوصلي ماڻهونءَ ڏنو جنهن جو سيلاب جي وجهه سان سڀ ڪجهه ٻڏي ويو هيو گهر تباه ٿي ويو هيو ڪنهن ميڊيا واري دوست کانئس سوال پڇيو ته اوهانکي بچائڻ جي لا۽ ڪجهه ڪيو. ته هن جو جواب هيئن هيو ته اسانجو ڳوٺ پري هئڻ ڪري ڪو ذريعو نه هيو جنهن سان انتظاميه تائين اسان جو حال پهچي، باقي اسان ڪنهن تي به تنقيد نه ڪنداسين ڇوته هي قدرتي آفت آهي جنهن جو ذڪر الله تعاليٰ قرآن شريف ۾ پڻ ڪيو آهي. اسانکي هن سيلاب کي پنهنجي گناهن ۽ الله تعاليٰ جي نافرمانيءَ جي سزا سمجهڻ گهرجي. ۽ الله تعاليٰ جي عذاب کان ڪابه حڪومت ڇا پر دنيا وڏي ۾ وڏي طاقت به ڪنهن کي بچائي نه ٿي سگهي. هي وقت تنقيد جو نه پر سڀني کي گڏجي متاثرين جا سور ونڊڻ جو آهي. ته مالڪ اسانکي جلد هن ڏکي وقت مان ڇوٽڪارو ڏياري (آمين)
(عمران درويش سومرو)
I_darvesh@yahoo.com



Monday, June 14, 2010








طوفاني برسات، متاثر ماڻهون ۽ سنڌ سرڪار......!
برسات، خداتعاليٰ جي طرفان هڪ نعمت هوندي آهي، جيڪا ڏڪاريل زمينن لاءِ رحمت کان گهٽ نه هوندي آهي، رڻ جا رهواسي ماڻهون وسڪاري جي لاءِ اکين ۾آس ڀري جڏهن اڀ ڏانهن نهارين ٿا ته تتل اُسَ پيدا ڪندڙ گرم سج کين مايوس ڪري ڇڏي ٿو. پر جڏهن آسمان ۾ ڪنهن ڪنڊ پاسي ۾ ڪو ڪڪر ڏسجي ٿو ته ننڍڙا ننڍڙا ٻارڙا خوشي ۾ اها دعا ڪندي نظر اچن ٿا ته “ الله سائين مينهن وساءِ”، اڃارا پکي وسڪاري جي واٽ نهاريندي جُهلَڻَ جو انتظار ڪندي نظر ٿا اچن، جڏهن ڪوئل جي ڪُوڪُو وارو ساز رڻ ۾ گونجي ٿو ته مينهن جا سڪايل ماڻهون ان ساز کي برسات جو پيغام سمجهن ٿا. انهن ننڍڙن ٻارڙن جي اها صدا پوري ٿئي ٿي ۽ ڪارا ڪڪر وسي پون ٿا، وسڪاري کانپوءِ جيڏانهن نظر وڃي رڳو ساوڪ ۽ هٻڪار وارو ماحول نظر ايندو آهي.
هڪ طرف جتي برسات رحمتون ۽ خوشيون کڻي اچي ٿي ته ٻئي طرف ان کي قدرتي آفت تسليم ڪيو وڃي ٿو، شهرن ۾ رهندڙ ماڻهون تيز برسات کي روڪڻ لاءِ دعائون ڪندا رهن ٿا، ڇاڪاڻ ته شهرن ۾ ڪاروباري ماڻهن پاران زمين جو سيني کي چيري وڏين وڏين عمارتون کوڙڻ لاءِ مختلف قسمن جا “سيمينٽ اسٽرڪچر” جوڙيا وڃن ٿا، جنهن سبب اتي اڃاري زمين جو ڪو وجود ئي نه هجي ٿو، برسات ٿيڻ سبب پاڻي انهن علائقن جي گهرن ڏانهن ڪاهي پوي ٿو ۽ انساني زندگي متاثر ٿئي ٿي.
هميشه اهڙي قسم جي برساتن، طوفان ۽ قدرتي آفتن ۾ هزارين ماڻهن جي بي گهر ٿيڻ، سوين ماڻهن جو اجل جو شڪار ٿيڻ ۽ لاتعداد ماڻهن جي گم ٿيڻ بابت خبرون هر ماڻهونءَ لاءِ افسوس ۽ ڏک جي لهر بڻجي وڃن ٿيون. متاثر ٿيل ماڻهون بي وس ۽ بي يارو مددگار ٿي پنهنجي لڙهي ويل سامان جي سائت ۾ لڳي وڃن ٿا... پر هن دفعي ايئن نه ٿيو!
هلندڙ مهيني ۾ آيل طوفان جون اڳڪٿيون ملڻ تي سنڌ سرڪار ڪنهن به هنگامي صورتحال کي منهن ڏيڻ لاءِ حفاظتي انتظامن جي رٿابندي شروع ڪري ڇڏي هئي ۽ وقت سر ان تي عمل پڻ ڪندي سنڌ جي سمورن اهڙن شهرن ۾ جتي سمنڊ ٽڪرائجي رهيو هو، انهن ۾ رليف ڪيمپون لڳايون ويون، ساحلي پٽي تي رهندڙ سمورن ماڻهن جي ڪيمپن ڏانهن منتقلي کي يقيني بڻايو ويو.
گذريل حڪومتن جا سٽيل ماڻهون پنهنجي اجهن تي قبضن جي خوف کان گهر خالي ڪرڻ بدران انهن جي حفاظت لاءِ جان قربان ڪرڻ لاءِ تيار هئا، ڇو ته شايد اڳوڻين حڪومتن ۾ انهن غريبن کي برساتن جا ڊپ ڏياري سندن اجهن کي خالي ڪرائي انهن تي قبضا ڪيا ويا هئا، پر موجوده سرڪار کي زمينون نه پر انهن غريبن جون حياتيون عزيز هيون، اعلٰي اختيارين جڏهن انهن غريبن جي گهر نه ڇڏڻ واري عمل کي ڏٺو ته کين مختلف ذريعن سان انهن کي اپيلون ڪندا رهيا ته اهي سامونڊي پٽي خالي ڪن ۽ پوءِ مختلف وزيرن پڻ انهن علائقن ۾وڃي انهن غريب ماڻهن کي خاطري ڪرائي ته موجودا حڪومت کي سندن حياتيون عزيز آهن ۽ ڪنهن جي به اجهي کي وڃائڻ نه سکي آهي. اعلٰي عملدارن جون اهڙيون ڳالهون ٻڌي غريب ماهيگيرن بي خوف ريلف ڪيمپن جو رخ ڪيو.
نيٺ طوفان آيو... حڪومت پاران جوڳا حفاظتي انتظام هئڻ ڪري ڪو به جاني نقصان نه ٿيو، طوفان سبب ٿيندڙ تيز برسات سبب مختلف شهرن ۾ پاڻي جا تلاءِ ٿي پيا ۽ رابطي جو نظام پڻ متاثر ٿيو.
عام زندگي کي معمول تي آڻڻ ۽ برساتي پاڻي جي نيڪالي لاءِ سنڌ حڪومت جوڳا اپاٰ ورتا ۽ سمورو پاڻي صرف 48 ڪلاڪن ۾ اتان غائب ٿي ويو. رليف ڪيپمن ۾ ترسيل ماڻهون سندن جان جي حفاظت جي لاءِ حڪومتي ڪارڪردگي سبب خوش نظر اچي رهيا هئا ۽ سندن گهرن ڏانهن واپسي جو سلسلو شروع ڪري ڏنو. ميڊيا پڻ حڪومتي ڪارڪردگيءَ جي مثبت انداز ۾ ساراهه ڪئي وڏي وزير پاران متاثرن لاءِ امداد جو اعلان پڻ ڪيو ويو.
ڪنهن به قدرتي آفت کان بچاءِ لاءِ حفاظتي اپائن جي اهڙي ڪارڪردگي اڳ ڪڏهن به ڏسڻ ۾ نه آئي، اهو ڏسي حيرت ٿي ته ڇا هيءِ ان حڪومت جي ڪارڪردگي آهي، جنهن تي تنقيد ڪرڻ کانسواءِ مخالفن جي ماني حضم نه ٿيندي آهي. پر ها... کين موجودا حڪومت جي ڪارڪردگي سندن ننڊون پڻ حرام ڪري ڇڏيون آهن.
عمران درويش سومرو

Email: i_darvesh@yahoo.com

Friday, June 11, 2010



Tuesday, June 1, 2010